UPSC Previous Year Question Papers – Last 10 Years Free PDF Download
UPSC Main Exam 2024 Compulsory Subjects URDU- Previous Year Question Paper PDF Download
UPSC Main Exam 2024 Compulsory Subjects URDU- Previous Year Question Paper PDF Download
Civil Services (Main) Examination, 2024
URDU
(Compulsory)
Time Allowed : 3 Hours
Maximum Marks : 300
سوالات سے متعلق خصوصی ہدایات
ہر سوال یا سوال کے جسے کا نہیں اس کے سامنے درج ہیں۔
جواب آمدو (فاری رسم اٹلڈ) میں گھی۔
سوالوں کے طے شدہ الفاظ میں ہی جواب دیں۔ الفاظ کی تعداد حد سے زیادہ ہو گے کی صورت میں نہیں کا نہ جانے گے ہیں۔
اگر کسی صفحہ کے کسی جھوڑ نا مقصود ہے تو اس پر کا کانٹان لگائیں۔
## Question Paper Specific Instructions
Free PDF Download LINK Given in Last of This Post/ question Paper , For Image and Diagram Please refer to given PDF
UPSC Previous Year Question Paper, testbook ,UPSC Previous Year Question Paper PDF, UPSC Previous Year Question Paper PDF Download, UPSC Question Paper PDF Download, UPSC Previous Year Papers, UPSC Previous Year Papers PDF, UPSC Previous Year Paper Free D
UPSC Main Exam 2024 Compulsory Subjects URDU- Previous Year Question Paper PDF Download
Please read each of the following instructions carefully before attempting questions :
All questions are to be attempted.
The number of marks carried by a question / part is indicated against it.
Answers must be written in URDU (Urdu script) unless otherwise directed in the question.
Word limit in questions, wherever specified, should be adhered to and if answered in much longer or shorter than the prescribed length, marks may be deducted.
Any page or portion of the page left blank in the Question-cum-Answer Booklet must be clearly struck off.
UPSC Main Exam 2024 Compulsory Subjects URDU Previous Year Question Paper PDF Download
1Q مندرجہ ذیل معلومات میں سے کسی ایک پر چھو (600) الفاظ پر مشتمل ایک مضمون حجر کریں :
(a) جمہوریات اور اظہار رائے کی آزادی
(b) کیا بند وستان میں پیشے کے پانی کا بحران قریب الو قوع ہے؟
(c) قابیٹل شفافٹ کا تخفیہ : کو ششیم اور امکانات
(d) خالی برتن زیادہ شور
2Q مندرجہ ذیل عبارت کو پوری تو جے سے پڑھیں اور پیچھے دیے گئے سوالات کے واضح، درست اور جامعے زبان میں جواب 12×5=60 : دیں
ﮐﯿﮑﯽ ﮐﻮ اﺑﺪ ﮐﺎ ﺣﻔﻆ ﺳﮩﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﻮ اﺑﺪ ﮐﻮ اﭘﻨﯽ ﺣﺪود ﻣﯿﮟ رﮐﮣﮯ ﮐﺎ اﻧﺘﻘﺎم ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ اﺑﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ اﻣﯿﮟ ﭼﯿﺰ ﺷﺎﻟﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ اس ﮐﮯ ﺟﻮ ﮨﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﺎؤ ﻣﯿﮟ رﮐﺎوٹ ﭘﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ اﺑﺪ اس ﻃﺮح ﮐﻤﺘﻠﮯ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻃﺮح ﻣﻮ ﺳﯿﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﻏﯿﺮ آﮨﮕﮯ ﺳﺮ ﺷﺎﻟﮧ ﮨﻮ ﻧﮯ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺳﺮ اﭘﻦ ﭘﯿﺪا ﮨﻮ ﺗﺎ ﮨﮯ۔
خوشی ہمارے حقیقی احساس کے اظہار میں مفسر ہے، جھوٹے احساس میں ہم صرف ذکھ ہی محسوس کرتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ انسان جھوٹے جذبات میں بھی خوشی محسوس کرتے پکھے لوگ تندد کر کے، کسی کی دولت تھیبا کریا کسی کو نقصان پہنچا کر خود غرضی کے لیے خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ دماغ کا فطری رجحان نہیں ہے۔ چور اندھیرے کو روشنی سے زیادہ پسند کرتا ہے لیکن یہ روشنی کی برتری میں رکاوٹ نہیں بنتا ہے۔
وہ احساسات جن کے ذریعہ ہم اپنے آپ کو دوسروں کے ساتھ جوڑنے کے قابل ہوتے ہیں وہ حقیقی احساسات ہیں۔ محبت ہمیں دوسروں سے جوڑتی ہے، تکبر ہمیں الگ کرتا ہے جو شخص بہت زیادہ مغرور ہو وہ دوسروں سے کیسے ملاپ کرے گا؟ اس لیے محبت ایک سچا ایمان ہے اور غرور جھوٹا ہے۔
عقیدت کے اظہار کے لیے رحمت کی یاد دلانے کے لیے کوئی چھوس چیز درکار ہے۔ ہمیں ایک احترام چاہیے۔ صبر اور حوصلہ کا مظاہرہ کرنے کے لیے ہمیں دوبارہ حقیقت کی ضرورت ہے۔ اس سے ہمارا مطلب یہ ہے کہ اپنے جذبات کو بیدار کرنے کے لیے ہمیں دوبارہ حقیقت کی ضرورت ہے۔ اس سے ہمارا مطلب یہ ہے کہ اپنے جذبات کو بیدار کرنے کے لیے ہمیں بیرونی چیزوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ فطرت کی بیرونی دنیا کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہے۔ اگر ہم کسی کی موت پر قائم کرتے ہوئے دکھ کے چند آنسو بہانے سے قاصر ہیں۔ اگر ہم دوسروں کی خوشیوں میں شامل ہو کر خوشی نہیں ہیں، نا سکے تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم دنیا سے اوپر اٹھ کر ”نروان“ کی حالت حاصل کر چکے ہیں۔ ادب کی ایسی صورت حال کی کوئی اہمیت نہیں۔ صرف وہی جو دنیا کی خوشی یا غم کے ساتھ مل کر خوشی یا غم کا تجربہ کر سکتا ہے یا دوسروں میں خوشی یا غم پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہی سچا ادیب ہو سکتا ہے۔ ایک ذکر میں اس کے اظہار کی صلاحیت بھی ہونی چاہیے۔ لیکن مختلف حادثات خراب افراد کو مختلف سمتوں میں لے جاتے ہیں۔ تمام انسانوں میں احساسات کی مماثلت کے باوجود حالات کا فرق ان کے رد عمل کو متاثر کرتا ہے اگر ہم ان کے درمیان رہے ہیں اور انصی لکھنے کا حوصلہ ملے تو ہم فطری طور پر ان کی خوشی اور ان کے غم کو اپنا خیال کرنے لگیں گے تب ہم متاثر ہوں گے۔ حالات جس طرح ہمارے احساسات کی گہرائی کے مطابق ہوتے ہیں اس طرح حالات کو بھی سمجھنا چاہیے اگر یہ تعبیر کیا جائے کہ کوئی مخصوص لوگ تحریک کا پرچار کر رہے ہیں تو یہ ناانصافی ہوگی۔ ادب اور پروپیگنڈہ میں کیا فرق ہے ؟ یہاں تک کہ پر وپیگنڈہ میں نفس کی کوئی تشہیر بھی نہیں ہے۔ ایک خاص مقصد کی تکمیل کے لیے ایک بے تابی موجود ہے جو اسباب کے جواز کی پرواہ نہیں کرتی ہے۔ سرد اور نرم ہوا کے جھونکے میں ادب جو سکون اور خوش کر دیتا ہے۔ پروپیگنڈہ ایک
طوفان ےہ وج رسزی دروتخں وک ڑجے ااھٹڑ اھکیٹگا ےہ اور وھجہ زیپویں اور وھجہں دوونں وک ہلا رک رھک داتی ےہ۔ اتمثر وہ رک رپ وپنگینڈ وخیش یک زیچ ںیہن ےہ نکیل ارگ وکیئ وہ اشیار فنکار اےس وخوصبریت اور وھپولں ےس رھبےن ںیم اکایمب وہ اجےئ وت ویہ رپ وپنگینڈ اک دصقم ےہ ہک اجبےئ اےھچ ادب اک ڑکٹان ان اجات ےہ۔
(a) تھید کو ادب کا حصہ کیوں سمجھا جاتا ہے؟
(b) صحیح اور غلطہ ظہارے کیامراد ہے ؟
(c) دامغ کے فطری رحان کے لیے کیا نہیں ہوتا ہے ؟
(d) مصنف کی راےئ میں سچا ادب کیا ہو سکتا ہے ؟
(e) ادب اور رپوپنگینڈ میں کیا فرق ہے ؟
3Q مندرج ذیل اقتباس کی بعضیں ایک تہائی حےث میں اےن الفاظ (اردو) میں تحریر کیھجے۔ کوئی عنوان قائم کرنے کی ضرورت ںیہنے ےہ :
ہی وتٹ کر نا ضروری ہے کہ حدس اک دبف وخصوص ارفد رپ وہاتا ہے۔ ااسی ںیہن کہ یسک اےسی ضعب ےس حدس ایک اجےئ وج دولت مندی اقلب ا زحام وہ۔ حدس رصف اس وقت پیدا وہاتا ہے جب ںیم نیقی ہن وہ کہ دوسروں ےن امہرا امواز ہن ایک ےہ ای امہرا امواز ہن ھچک اےسی ولوگں ےس رک ےتکس ںیہ وج مہ ےس دور ںیہ ای عطقہ ںیہ اور بج ہی ینیل ںیہن ےہ کہ ولوگ ںیمہ ایک اسھت دںیھکی ےگ اور امواز ہن رکںی ےگ۔اکیض ںیم رےنہ والا اکی اریما آدمی ںیہن ےنب اگ۔ وی رپ ںیم رےنہ والے اکی آدمی ےک اریما ےک ابرے ںیم ٹن رکش آاتا ےہ۔ اکی دنب ی اشعر یسک ارگن زایشعر یک امنایں تیصخش رپ رکش وحموس ںیہن رکے اگ۔ رکش ارثک ہنش داروں ، نیچب ےک دووتسں ، مہ امجتع ، ڑپوسدیں ںیم ڑبھاتا وہاد اھکی اجاتا ےہ۔ وج ولگ نیچب ےس اےھٹک وھگم رےہ ںیہ وہ اکی دوسرے یک رتیق رپ رکش رک ےتکس ںیہ۔ ارثک دو دوتسں ںیم ےس وکیئ اکی اکایمب احلص رکات ےہ اور اھچی وپزنشی رپ چنہپ اجات ےہ، وت وہ ارثک دوسرے دوتس وک اینپ اکایمب ںیم رکا وٹوں ےک ےھچی وہےئ العوقں وک اھچپےن یک وجتسج ںیم ایس رطح یک وپزنشی احلص رکےن ےس روےنک یک وکشش رکےت وہےئ داھکی اجاتا ےہ ہی احس اس رکان وکیئ ومعمیل ابت
ڈیٹس ےہ ہک اکی وطلی دوتس ان ےک ےھچیپ ےہ۔ بج مہ دوسروں ےک اسھت رواہط وھبل اجےت ںیہ ورانیش اےنپ ےیل اقمم ےک اسھت وجڑ دےتی ںیہ، مہ ہن رصف دہم ردی اور دمد یک آابی ری رکےت ںیہ ہکلب دحد اور االتخف اک ااکمن یھب دیپا رکےت ںیہ۔ ہی انکمن ےہ ہک مہ رصف اےنپ لمع ےس یہ الھبیئ ےک ااکمنت وک روشن رکںی۔ اس رطح قیقحت یک ومرویث ریغ یفنح وصرت احل ریغ زنمزل اور وپدیشہ ےہ۔ مہ امتم رتعمل اور ذہانت ےک ابووجد مہ اس رپ وپری رطح اقوب ںیہن اپےتکس ںیہ۔
اب وج زچی امہ، وہاجیت ےہ وہ ہی ےہ ہک دح ےک دانئے ںیم دح رکےن واےل ارفاد اور ولطمہب ےس ےک العوہ اس رحتمک اعمرشے یک یھب رضورت ےہ۔ دح اعمرشے ےک اترث وک اتمرث رکےن یک رضورت ےس دیپا وہات ےہ۔ وخاحشیل یک وخبی اور اٰیلع ازحام اک دصقم و یقح وطر رپ فط اذہن وہےن ےک ےیل ںیہن ےہ، رصف ذایت ومواد اور وخیش ےک ےیل اںیہن ویکہی وک اتبےئ ریغب ارگہچ مہ درتقیقح یسک اور یک رطح کین ںیہ نکیل اعمرشہ ںیمہ رباربی رت ےھجمس وت مہ نطمئن رںیہ ےگ اور دح ےک اٰیلص اھت ںیم اتبلاری ںیہ ےگ۔
ہی بیجع ابت ےہ ہک سک رطح تہب ےس ولگ یسک زیچ وک احلص رکےن ےس امیوس ںیہ۔ مہ رصف اعمرشیت اور اک یک وج ےس اس اک اقمہلب رکںی ےگ۔ دح امسیج ووجد یک ونصمتیع ےس منج ایلت ےہ۔ اس ےک زریاثر، ںیمہ ےب رضورت ےب اانیمطن اک اسانم رک اانپ ات ےہ۔ اہیں کت ہک بج مہ دوسروں، یک رتیق اور رتیق یک وہج ےس اینپ تحص ےک ےیل یسک یھب مسق ےک اضقمن اک ادنازہ ںیہن اگلےت۔ اکی حبض ااصنف رفامہ رکات ےہ اکی ومنں وتڑ داتی ےہ۔ امسیج وہبد ےک ہطقن رظنے یسک حبض ےیل ہی انمبس ںیہن وہاگ ہک وہ ومنس ےک ابرے ںیم ہی ااہظر رکے ہک وہ یسک یھب احلظ ےس رتک ےہ۔ اکی ااسی اعمرشہ سج ںیم رتک اٰیلع یک وسچ رہی وہاجیت ےہ، اس ےک فلتخم وطقن ںیم دس قفتم رپ آابد وہاجات ےہ اور اتحاد یک رطف شیپ رفتم رصف اشذ و اندر وماقح رپ یہ رظن آیت ےہ۔ ولگ اینپ روز یک امےن ںیم، اعمرشے ےس تہب زایدہ زعت اور اانیمطن متخ وہاجےئ اگ۔ اہجں اایتمزی ولسک اک ہی ااسحس ڑبے اپےن رپ اعم ایک اجات ےہ اور ااسنین روویں ںیم واحض وطر رپ رظن آات ےہ واہں ولگوں یک وتاانیئ ھچک وصخمص وبشں یک رطف اجیت ےہ اور اکم یک ںیہمت رتہب وہ اجیت ںیہ۔
(الفاظ 584)
4Q
کاچی اندئڑ سڑی اور چھوٹے پیا نے کے کارو باری اداروں سے متعلق بات چیت ان دونوں ہندوستان میں ایک بار پھر جنم لے رہی ہے۔ ایسی صنعتوں کے معاملے میں چھوٹے گھر پر مبنی کارو بار کے قیام کا تصور ہے جس میں چھوٹے احاطے کم سے کم سرمائے کی سرمایہ کاری اور کم مزدو ری کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ موڑ افراد کو پر ڈوی سر یا میٹو پیچھر رز بنے کی اجازت دیتا ہے جو اپنی روزی روٹی کامنے کے جیلجنوں سے منٹنا ہے اور اس وجہ سے بے روزگاری کا مقابلہ کرتے ہوئے زندگی کے بہتر معیار کا باعث بنتا ہے۔ یہ حقیقت کہ چھوٹے چھوٹے پیا نے کی صنعت میں ہندوستان جیسے ملک کی ترقی کے مفاد میں ہو سکتی ہیں۔ خود مہاتما گاہدیھی نے جد و جہد آزادی کے دونوں میں تصور کیا تھا۔ انہوں نے لوگوں کو چھوٹے پر ڈکشن ویٹس قائم کرنے اور روایتی صنعتوں کی حبالی کی ترغیب دی۔ اس دور اندیشی کے باوجود آزادی کے بعد کی قیادت نے اس شعبے کو بڑی حد تک نظر انداز کیا جس سے صنعتوں کو غلبہ حاصل ہوا۔ یہ صنعت میں متحول طبقے کی ذاتی ملکیت نفی رہیں۔ بڑھتی ہوئی آ بادی، تعلیم کا پھیلاؤ، عوام میں، بیداری اور اپنے حقوق کا مطالبہ، بے روزگاری کی بڑھتی قطار، ان سب چیزیوں نے آج کے ب اشعور مفکرین کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ وہ دیر سے بہتر سوچنے پر غور کریں۔ گاہدیھی کے اصول آج اس بات کی پھچان بڑھ رہی ہے چھوٹے پیا نے کی صنعتوں کو اپنانا ملک کی ضرور یات کے مطابق ہے۔ تعیب گاہان صنعتوں کاٹیب ورک پورے ملک میں پھیل گیا ہے۔
5Q .مندرجہ ذیل پہرا گارڈوں میں ترجمہ کیجیے :
In our democratic system, the press has a vital role. While there has been large-scale expansion of the print and visual media in recent years, a focused approach to dealing with major societal and political issues has still to evolve. There is, as yet, excessive and exaggerated coverage of exposures and scandals and far too little well-informed comment or analysis of the various deep-rooted factors which generate the continuing malaise. The media could make an extremely useful contribution by devoting adequate coverage to tasks well done, highlighting the achievements of honest and
2x5=10 (a) 6Q
2×5=10 (c) درج ذیل سوالوں کے جواب گئے : (i) قصیدہ اور مرشبہ کے فرق کو بیان گئے۔ (ii) مثنوی کی تعریف بیان گئے۔ (iii) نظم معنی کی تعریف بیان گئے۔ (iv) آزاد نظم کے کہتے ہیں؟ (v) صنعت تشبیہ کے کہتے ہیں؟ (d) غالب کی خطوط نگاری سے بحث گئے۔
UPSC MAIN Compulsory Subjects Free PDF Download-URDU
Other Question Paper :
UPSC Main Exam 2024 Compulsory Subjects TELUGU- Previous Year Question Paper PDF Download
UPSC Main Exam 2024 Compulsory Subjects TAMIL- Previous Year Question Paper PDF Download
UPSC Main Exam 2024 Compulsory Subjects Sanskrit- Previous Year Question Paper PDF Download